Monday, February 3, 2020

Saudi Crusader's New Scandal ..... !!


Saudi Arabia's deputy king, Wali Ehed Mohammad bin Salman, has been caught in a new dispute. According to reports, they started hacking opponents' phones but were badly caught.

The recent controversy led to hacking of the famous global company Amazon and Washington Post owner "Jeff Bezos".

Mohammad Bin Salman took the number from Jeff Bezos at a ceremony last month. Then send a virus-free MP4 video from your WhatsApp to Jeff's mobile number. The video was secretly spy software Minsk. As soon as the video is opened, spy software is automatically installed on Jeff's iPhone. This is how Jeff's phone was hacked. The spy software sent all of Jeff Bezos' personal and business data to Muhammad bin Salman a few hours later.

Remember that journalist "Jamal Khashikaji" was affiliated with the Washington Post, and after Khashikaji's murder, the same criticism of Muhammad bin Salman continued. That is why the Crown Prince hacked the phone of Jeff Bezos, the owner of the newspaper, and sent his personal data to his opponents so that the newspaper could be silenced, if not completely silent, by blackmailing Jeff.

Obviously, after the murder of journalist Khashikaji, Mohammed bin Salman has been caught red-handed again. The forensic report of Jeff Bezos' phone has proven that the spy software was sent to his phone via the same mp4 video that WhatsApp sent to Mohammed bin Salman with his personal mobile number.

The Saudi embassy has denied the allegations, but UN specialists have called for the investigation of "Mohammed bin Salman" as links to all evidence linked to the case go to Mohammed bin Salman.

How the Bin Mohammed bin Salman will escape the new controversy by bribing the United States on the Khashakji killings will tell us the time to come, but one thing is clear that the Khasak killers were involved in the killing and were unacceptable in the hacking. The rebuttal evidence points to Mohammed bin Salman.



Read Also

پی ٹی وی بورڈ نے 20 ارب روپے خسارہ پورا کرنے کے لیے صارفین سے ٹی وی لائسنس فیس کی مد میں اضافی وصولی کی منظوری دے دی



پی ٹی وی کو اس وقت 20 ارب روپے سالانہ خسارے کا سامنا ہے

اس خسارے میں فوری کمی لانے کے لیے پی ٹی وی نے تین  مشیر پرائیویٹ سیکٹر سے ہآئر کیے  جن کی تنحواہوں و مراعات پر پی ٹی وی ماہانہ 30 لاکھ روپے کا بوجھ برداشت کر رہا ہے

30 لاکھ ماہانہ میں پڑنے والے ان تین منیجنگ منیجرز نے بزنس پلان بنانے کے بجائے خسارہ کمی کے لیے ٹی وی فیس میں اضافے کی تجویز دی ان منیجنگ منیجرز نے بجلی کے بلز میں ٹی وی فیس 35 سے بڑھا کر 100 روپے کرنے کی سفارش کی جس کی پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن نے منظوری دے دی
یاد رہے کہ ٹی وی لائسنس فیس بجلی کے بلوں کے ذریعے سے صارفین سے وصول کی جاتی ہے جو پہلے 35 روپے ہے اور اب اگر حکومت ایکشن نہیں لیتی تو 100 روپے ہو گی۔

اس طرح ٹی وی لائسنس فیس کی مد میں بجلی کے بلوں کے زریعے سے صارفین سے 20 ارب روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔
بجلی کے صارفین پہلے ہی بجلی کی قیمتوں میں گزشتہ 18 ماہ سے 40 فیصد اضافہ برداشت کررہے ہیں-
ان ماہرین نے خرچ کم کرنے کے لیے پی ٹی وی کے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی حد 60 سے 58 سال کرنے کی سفارش کی ہے جس سے 15 لاکھ ماہانہ بچائے جاسکیں گے۔
PTVجبکہ ان 3 منیجرز کا
پہ بوجھ 30 لاکھ ماہانہ ہے۔


*پولیس کی وردی پر کیمرہ جات نصب کردئیے گئے۔۔۔*



اسلام آباد: ناکے پر موجود اہلکاوں نے مکمل ٹریننگ کے بعد باقاعدہ طور پر کیمروں کا استعمال شروع کردیا.

آئی جی اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار خان کی وفاقی وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ سے ملاقات

ملاقات میں ڈی آئی جی آپریشنز وقارالدین سید بھی موجود تھے

آئی جی اسلام آباد نے ناک جات پر مامور جوانوں کی وردی میں نصب کیے جانے والے ویڈیو کیمروں کے بارے میں بریف کیا

آئی جی اسلام آباد نے وفاقی وزیر داخلہ کو کیمروں کے فوائد کے بارے میں بتایا

وزیر داخلہ نے اسلام آباد پولیس کے اس اقدام کی تعریف کی،

وردی پر نصب شدہ ویڈیو کیمرے اندھیرے میں بھی ویڈیو بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں

نصب کئیے گئے کیمرہ جات شہریوں اور ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار کے درمیان ہونے والی گفتگو ریکارڈ کریں گے.

ناکہ جات پر ریکارڈ شدہ ویڈیو کا ریکارڈ روزانہ کی بنیاد پر زونل ایس پی کے دفتر میں  محفوظ رکھا جائے گا.

ابتدائی طور پولیس نے اپنی مدد آپ کے تحت 10 کیمروں کی خریداری کی

کیمرے ناکوں پر کھڑے پولیس اہلکاروں کے یونیفارم پر نصب کئے گئے ہیں 

کیمرے جدید ترین ٹیکنالوجی سے منسلک ہوں گے

جلد ضلع بھر کے تمام ناکہ جات پر یہ کیمرے فراہم کردئیے جائیں گے

دوسرے مرحلے میں گشت پر مامور اہلکاروں اور تھانوں کی سطح پر ڈیوٹی آفیسر کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی

مستقبل میں ان کیمروں سے لاء اینڈ آرڈر جیسے موقعوں پر بھی مدد حاصل کی جاسکے گی

کمیروں کو سیف سٹی پراجیکٹ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے

ناکوں پر کھڑے پولیس اہلکاروں اور اور شہریوں کے درمیان گفتگو کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے

ویڈیو کیمرے نصب کرنے سے شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے کی جانے والی شکایات کا ازالہ کیا جاسکے گا

اسلام آباد پولیس کا عزم
تحفظ خدمت اور اعتماد

ترجمان اسلام آباد پولیس